بارش کی ان بوندوں کی شورش میں، چاے کا کپ تھامے میں عجیب سی کشمکش میں مبتلا  تھا۔ بالکنی میں کھڑے کھڑے مجھے اپنے چہرے پہ ہلکی سی نمی کا احساس ہوا۔بارش کب کا اپنا رخ بدل چکی تھی اور چند چنچل بوندیں میرے رخسار پر اٹھکیلیاں کر رہی تھیں۔ چاے کا خالی کپ میرا منہ چڑاتا ہوا بارش کی بوچھاڑ سے محظوظ ہورا تھا۔ میں نجانے کب سے کھڑا اسکی یاد میں گم تھا۔ اسکا جھوٹ موٹ کا لڑنا اور مجھ پہ بگڑنا۔ اسکو وقت نہیں دینا  اور اپنی مصروفیات کو مورد الزام ٹھہراتے رہنا۔۔۔

یہ بارشیں بھی اکثر زخم ادھیڑنا شروع کر دیتی ہیں۔۔۔ زندگی کی اس بھاگ دوڑ میں اول آنے کی کوشش میں ہم اکثر اپنے آپ کو ہی مات دے دیتے ہیں۔ ریس کے گھوڑے بنے ہم دنیا کے سامنے جیت جاتے ہیں لیکن اپنے آپ کو اس بھیڑ میں کہیں کھو دیتے ہیں۔ان سوچوں میں گم مجھے اک کپ چائے کی اور طلب محسوس ہونا شروع ہوئی تو میں نے بالکنی سے کچن کا رخ کیا۔ چائے کا پانی چولہے پر چڑھا میں اب بھی، اسی کشمکشِ میں مبتلا ہوں کہ آخر ہم اک سراب کے پیچھے کیوں دوڑ رہے ہیں۔ اس سراب کے زیر اثر ہم ان کو کیوں کھو جانے دیتے ہیں جو ہمارے لیے ہوتے ہیں۔۔ کیوں روشن صبح کی نوید سننے کے بجائے ہم اس ہیبت ناک تاریکی میں کھوجانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں ، یہ جانتے ہوئے کہ آخر کو آنکھوں کے نم ہونے کا سلسلہ وقت کے ساتھ تھمنے والا نہیں بلکہ تمام ضابطہ اخلاق توڑ کر جاری و ساری رہنے والا ھے۔۔۔

ابھی اور بھی طویل سوچوں کے سفر کے لیے رخت سفر باندھنے والا تھا کہ بہن کی آواز نے سوچوں کی دنیا سے باہر لا کھڑا کیا۔۔ چائے ابال آنے کہ بعد اب دیگچی سے فرار کی کاوش میں مبتلا تھی۔ کچن کی کھڑکی پہ ٹکراتی بوندیں اس بات کا باہم اعلان کر رہی تھیں کہ بارش نہ صرف اب تک جاری و ساری ہے بلکہ بہت تیز ہو چکی ہے۔ میں ناجانے کب سے ان سوچوں کے تھپیڑوں میں الجھا ہوا تھا ک وقت گزرنے کا احساس تک نا ہوا۔ دل نے کہا زین میاں ان یادوں کے دریچوں کو اب پار کر جاؤ۔ آگے بڑھو اور زندگی کو گلے لگاؤں۔ سر جھٹکتا ہوا میں پھر بالکنی میں آکھڑا ہوا، اسی لمحے آنکھ کے اک کونے سے اک آنسو نے چھلانگ لگائی اور گال پہ پڑتی بوندوں میں کہیں گم ہوگیا۔ ناجانے کب سے اسی پل کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔