اس نے مجھے اپنا تحریر کردا زندگی کا نیا افسانہ ارسال کیا تھا۔ کافی دن سے وہ لفافہ پائیدان کی ہی زینت بنا ہوا تھا۔ کچھ اس ہلکی سی نفرت کا اثر تھا اور کچھ میری اپنی کاہلی۔ خیر آج دفتر سے جلد فراغت کے باعث ہم سر شام ہی گھر میں موجود تھے۔ دھیان پائیدان پہ اب تک موجود ڈاک پر گیا۔ چند کاروباری نوعیت کے فرسودہ خطوط میں اسکا خط بھی شامل تھا۔ پہلے پہل تو دل کیا کہ اسے کھولے بغیر ہی نظر آتش کردوں، بعد اذاں خیال آیا کہ پڑھنے میں ایسی بھی کیا قباحت۔چٹھی کھولی تو خط کم اک کتابچہ زیادہ لگا۔۔ طویل سانس لیا اور سوچا اب کیا رہ گیا تھا سنانے کو کہ اس قدر لمبا خط لکھ بھیجا۔ پڑھنا شروع کیا تو گویا جیسے زیر طلسم اک ہی نشست میں تمام صفحات پڑھ ڈالے۔ اک سرد رات میں روح تک کو جھرجھری دے جانے والی ٹھنڈی ہوا کا جسم کے آرپار ہوجانے کا احساس ہوا۔ اک اک لفظ اپنے آپ میں اک داستان سموئے ہوئے تھا۔ ہر لفظ کے اندر اک درد پنہاں تھا۔ پل بھر کو گویا یوں لگا جیسے دنیا تھم سی گئی۔ ہر سو اک خاموشی کی لہر چھا گئی۔ میری کیفیت کچھ ایسی تھی جیسے دھند اک دم سے چھٹ گئی۔ میں لڑکھڑا کر قریبی موجود آرام کرسی پہ ڈھیر ہوگیا۔

ماضی کی تلخ یادیں مجھے دبوچنے ان  پہنچیں۔ اک اک منظر فلم کی طرح میری آنکھوں کے سامنے چلنے لگا۔ چھم چھم آنسوؤں کی لڑیاں آنکھوں سے آبشار کی مانند بہنے لگیں۔ دل کیا کہ اک اک لفظ کا بھروسہ کر لوں جو اس نے تحریر کیا۔ بس نہیں چل رہا تھا ک ابھی سرپٹ دوڑتے ہوئے جاؤں اور اسے اس ظالم سماج کے کچوکوں سے کہیں دور بھگا لے جاؤں۔ قدم اٹھنے کو ہی تھے کہ کہیں اندر سے آواز آئی زین! بھول گئے وہ سب جو اس نے کیا۔ محظ رتبے اور پیسے کی خاطر تمہارا برسوں کا پیار ٹھکرادیا تھا اس نے۔ بھول گئے کیسے زندہ در گور کر دیا تھا تمہیں اور مڑ کر کبھی خبر بھی نہ لی۔ ماہ و سال جو درد تم جھیلتے آئے ہو وہ تم اک پل میں بھول گئے۔ بھول گئے وہ جگ ہنسائی جو اس کے چھوڑ جانے پر ہوئی۔ کیا کیا نہ دیکھا، کیا کیا نہ سہا۔ عہد کیا تھا نا کہ اسکے بارے میں آئیندہ نہیں سوچو گے۔۔۔

پھر یہ کیا۔ کہاں گیا وہ خود سے کیا وعدہ۔ میرا دماغ مجھے ملامت کیے جا رہا تھا اور میں اک الگ ہی سوچ میں مدہوش ہوچکا تھا۔۔ اچانک ہی میرے دل سے آواز آئی، وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوا کرے۔ اور وہ عشق ہی کیا جو رسوا نا کرے۔کسی طلسم ہوشربا کے زیر اثر میرے قدم پائیں باغ کی جانب بڑھ گئے، نا جانے کیوں میں چور راستہ سے نکل اس سے اک اور ملاقات کے لیے گامزن تھا۔ دماغ کی ملامت ابھی بھی جاری تھی کہ آج پھر وہی ہوگا جو چند سال پہلے ہوا تھا۔ آج پھر تمھارا محبوب تمھارے پیار کو مجروح کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گا۔ لیکن دل کا کیا کریں صاحب ، ہزار نفرت کے باوجود ہم انہی پر مرتے ہیں۔۔ رہا درد و رنجش کا نشہ، کیا کریں جناب چھٹتا ہی نہیں ظالم منہ کو لگا۔۔۔ دور کہیں اچانک بجلی کوندی، اک شریر سی مسکراہٹ چہرے پہ چھا گئی۔ گویا قدرت نے مکمل انتظام کر رکھا ہے اب کی بار میرے آنسوؤں کو جھلمل کرتی بوندوں میں چھپانے کا۔۔۔